رواج پذیر

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - رواج پانے والا، قابل قبول۔ "جن تصنیفات میں امام صاحب نے اسلام کے اصلی عقائد اور ان کے حقائق بیان کیے ہیں. باوجود مختصر اور سہل ہونے کے وہ رواج پذیر نہیں۔"      ( ١٩٠٦ء، الکلام، ٤:٢ )

اشتقاق

عربی زبان سے ماخوذ اسم 'رواج' کے ساتھ فارسی مصدر 'پذیر فتن' سے صیغہ امر 'پذیر' بطور لاحقہ فاعلی لگانے سے مرکب بنا۔ اردو میں بطور صفت استعمال ہوتا ہے۔ ١٩٠٦ء کو "الکلام" میں مستعمل ملتا ہے۔

مثالیں

١ - رواج پانے والا، قابل قبول۔ "جن تصنیفات میں امام صاحب نے اسلام کے اصلی عقائد اور ان کے حقائق بیان کیے ہیں. باوجود مختصر اور سہل ہونے کے وہ رواج پذیر نہیں۔"      ( ١٩٠٦ء، الکلام، ٤:٢ )